خاک ساری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - عجز و انکسار، فروتنی، عاجزی۔ "آپ کی تواضع اور خاکساری کا یہ عالم دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ آپ پیغمبر ہیں۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٧٨:٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'خاک' کے ساتھ فارسی اسم 'سار' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٧٠٧ء میں "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عجز و انکسار، فروتنی، عاجزی۔ "آپ کی تواضع اور خاکساری کا یہ عالم دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ آپ پیغمبر ہیں۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٧٨:٢ )

جنس: مؤنث